Sunday, May 9, 2021

سلطان فتح علی ٹیپو اور برصغیر کے مسلمان سیاسی شخصیت

آج میں آپ کو برصغیر کے مسلمان سیاسی شخصیت کی زندگی کے مختلف گوشوں سے آشنا کرانے کی کوشش کروں گا۔ ان کے بارے میں تاریخ کے اکثر طالبعلم یہ رائے رکھتے ہیں کہ اگر سلطان فتح علی ٹیپو کے ارد گرد کے میر صادق جیسے ننگے ملت ننگے دین اورننگے وطن کے کردار نہ ہوتے تو یقینا آج برصغیر کی تاریخ اس سے مختلف ہوتی۔

شہرے محصور جس کے بارے میں انگریز مائیں اپنے بچوں کو ڈرانے کے لیے کہا کرتی تھیں کہ خاموش ھوجاؤ ٹیپو آ رہا ہے۔ تاریخی شہادتوں کے مطابق اٹھارویں صدی میں سرزمین ہندوستان پر دو ہی ایسی شخصیات تھیں جو انگریزوں کا راستہ روکنے کی قوت اور صلاحیت رکھتی تھیں۔ جن میں سے ایک نواب سراج الدولہ ہے جو کہ بنگال کے حاکم تھے۔ جبکہ دوسری شخصیت شیر میسور سلطان فتح علی ٹیپو کی تھیں۔ لیکن یہ دونوں سربلند شخصیات غداروں کے بدترین مقاصد کا شکار ہوگئے۔ اور بالآخر ہندوستان انگریزوں کی آغوش میں چلا گیا۔

- Advertisement -

دس نومبر ستراں سو پچاس ہماری تاریخ کا وہ یادگار دن ہے جب میسور کے سلطان حیدر علی کے یہاں ایک فرزند ارجمند نے جنم لیا یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کمزور سے کمزور تر ہو رہی تھی۔ جبکہ غیر ملکی طاقتوں میں یہاں برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی اور فرانسیسیوں کے تجارتی مراکز قائم ہو چکے تھے اور مزید دلچسپ پہلو یہ ہے کہ دونوں بام حرف قوتیں تھیں۔ سلطان حیدر علی انگریزوں کے مقابلے میں فرانسیسیوں کے اتحادی تھے۔

جبکہ انگریز اپنی مکاری کی بدولت نہ صرف مرہٹوں کی طاقت کو اپنے حق میں استعمال کر رہا تھا بلکہ یہ بھی ہماری تاریخ کا ایک تاریخی پہلو ہے۔ کہ حیدر آباد دکن کا مسلمان حکمران نظام الملک بھی حیدر علی کے مقابلے میں انگریزوں کا اتحادی تھا۔ لیکن چھ دسمبر سترہ سو بیاسی کے ایک اداس دن سلطان حیدر علی کو مشیت الہی کے مطابق اس دنیا سے رخصت ہونا پڑا۔ اور ٹیپو سلطنت پر بیٹھے، اور انہوں نے بھی اپنے عظیم باپ کے مشن کو جاری رکھتے ہوئے، نہ صرف عوام کی فلاح و بہبود کے لئے بے شمار کام کیے۔

سلطنت کی حفاظت کے لئے ایسے ایسے اقدامات اٹھائے کہ ایک تاریخی روایت کے مطابق محصور کا ہر گھر اسلحہ ساز فیکٹری میں تبدیل ہوگیا۔ سلطان فتح علی ٹیپو کی ساری زندگی اپنے وطن کو انگریزوں سے پاک کرنے کی جدوجہد میں گزری جس کے لیے اس نہ صرف برصغیر کے مسلمان حکمران نظام دکن بلکہ دیگر اسلامی ممالک سمیت بالخصوص فرانس سے بھی تعلقات استوار کرتے ہوئے خود کو مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران انگریزوں اور مرہٹوں اور نظام آف حیدرآباد کو بارہا ٹیپو کے مقابلے میں ہزیمت بھی اٹھانا پڑی تھی۔ کہیں پر فتح پائے بغیر ہندوستان پر قبضہ ممکن نہیں اور یہ بھی کھل چکا تھا کہ وہ جنگ کے ذریعے سے محصور کو شکست نہیں دے سکتے تھے۔

- Advertisement -

انہوں نے اپنی مکاری کو آزمانے کا فیصلہ کیا اور منافقت کیا استعمال کرتے ہوئے غداروں کو خریدنے کے مشن پر کام شروع کرتے ہوئے۔ بالآخر فروری 1791 میں لارڈ کارنوالس کو ہندوستان بھیجا گیا۔ جس نے بنگلور کو فتح کرکے سرنگا پٹم کا محاصرہ کر لیا مگر چیچک کی وبا پھوٹنے نے پر ابھی وہ محاصرہ اٹھانے پر مجبور ہوئے تھے، کہ مرہٹے ان کی مدد کو آ پہنچے۔ لیکن ٹیپو کا دبدابا اس قدر تھا کہ انہوں نے مصالحت میں عافیت سمجھی۔ سلطان نے وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے صلح کا عہد نامہ نہ پسندیدہ شرائط کے باوجود قبول کیا۔

جس میں اپنی آدھی سلطنت انگریزی مرہٹوں اور نظام کے حوالے کرنے کے ساتھ ساتھ ایک بھاری رقم بھی بطور تاوان ادا کرنا پڑی۔ سلطان ٹیپو نے معاہدے کی شرطیں پوری ہونے تک اپنی دو صاحبزادوں کو بطور یرغمال انگریزوں کے حوالے کردیا۔ یہ ایک کاری ضرب تھی جو ٹیپو حکومت پر لگی۔ لیکن سلطان نے ہمت نہ ہاری۔ اور محض پانچ برس کی انتھک محنت کے بعد حالات پر قابو پالیا۔ جہاں امیر صادق جس کی حیثیت وزیراعظم کے برابر تھی۔ کہ علاوہ پورنیا اور قمر الدین جیسے وزراء انگریزوں کے ہاتھوں بک چکے تھے۔ سلطان کا ہر راز انگریزوں تک پہنچ رہا تھا۔ اور ولزلی سلطان کو جنگ کی دھمکی دے چکا تھا۔

22 اپریل سترہ سو ننانوے وہ سیاہ دن تھا۔ جب جنرل ہیرس نے سرنگاپٹم کے قلعے پر گولہ باری شروع کی۔ انگریزوں کی اطلاعات کے مطابق قلعے کی اس دیوار پر حملہ کیا جو کہ کمزور اور جس کی تعمیر نو جاری تھی۔ لیکن عین وقت پر پورنیا نے محافظ فوج کو یہ کہہ کر کام سے روک دیا۔ کہ وہ اپنی تنخواہیں وصول کرلیں۔ دوپہر کا وقت تھا جب یہ دیوار گری اور انگریز فوج آسانی سے قلعے میں داخل ہوگئی۔

- Advertisement -

اس وقت کھنا سلطان کے سامنے پڑھا تھا۔ ابھی لوکمہ ہی اٹھایا تھا کہ ایک جان نثار سید غفار کی شہادت کی اطلاع ملی۔ تو آپ نے کھانا چھوڑ دیا اور تلوار لے کر جنگ کے لئے نکل پڑیں اور میر صادق نے روکا تو جواب آیا کہ نہیں، شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔ اس موقع پر ایک مجاہد نے میر صادق کی حقیقت کو جانتے ہوئے آگے بڑھ کر اس کی گردن تن سے جدا کردی۔ دوران جنگ زخموں سے چور ٹیپوسلطان زمین پر گرے تو انگریز سپاہیوں کی زمین پر گڑھے سلطان کی بیش قیمتی پیٹی اتارنے کی کوشش کی لیکن ابھی سانس باقی تھی سلطان نے ایک بار میں اس کا کام تمام کر دیا۔ اور شہید ہو گئے۔

جب تلاش بسیار کے بعد آپ کی میت مل گئی تو انگریز کمانڈو خوشی سے نعرہ لگاتے ہوئے کہا کہ آج سے ہندوستان ہمارا ہے۔ٹیپو سلطان وہ شیر تھا جس کے شہید ہونے کے بعد کافی دیر تک اس کے قریب جانے سے کتراتے رہے۔ کہ کہیں بھوتنی اور غداروں کی مدد فروشی کی مختصر ویڈیو پیش خدمت ہیں دوستو کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے ہمیں اپنی آراء سے ضرور آگاہ رکھیں.

- Advertisement -
adminhttps://topstory.pk
Muhammad Fayyaz. Topstory.pk | Top Story, One Source For All Things Top Story. We’re Dedicated To Providing You The Very Best of Top Story, With An Emphasis On News, World, Technical, History, Article, Story

Related Articles

Kurulus Osman Season 2 Episode 58 English Urdu Subtitles

0
Kurulus Osman Season 2 Episode 58 English Urdu Subtitles Kurulus Osman Season 2 Episode 57 Review Drama: Kurulus Osman Episode: 31 Season: 2 Release Date: 13-05-2021 In Chapter 57, Kurulus...

Why can’t I read?

0
Why can't I read? Books are very cheap these days. But that was not the case in earlier times. Books were only available in large...

Kurulus Osman Season 2 Episode 57 Urdu English Subtitle

0
Full Watch Kurulus Osman Season 2 Episode 57 Urdu English Subtitle Kurulus Osman Season 2 Episode 56 Review Darama: Kurulus Osman Episode: 30 Season: 2 Release Date: 06-05-2021 Kurulus Osman...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Latest Articles